حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے تہران کے حسینیہ اہل بیتؑ میں ایام فاطمیہ کی تیسری مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چار خواتین کی مثالوں کے ذریعے ایمان، کفر اور انسانی کردار کے اہم پہلو واضح کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویاں انبیائے الٰہی کے ساتھ رہنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں۔ ان کے بارے میں خیانت سے مراد بدکرداری نہیں، بلکہ عقیدے اور دعوتِ حق کی مخالفت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات کا معیار خاندانی تعلق نہیں، بلکہ ایمان اور عمل ہے۔
حجۃ الاسلام انصاریان نے والدین کے حقوق پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر والدین شرک کی دعوت دیں تب بھی ان کی بات نہیں ماننی چاہیے، لیکن دنیاوی زندگی میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور احترام برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے آسیہ، زوجۂ فرعون، کو ایمان اور حق پر ثابت قدمی کی مثال قرار دیا، جنہوں نے فرعون کے ظلم اور دباؤ کے باوجود ایمان نہیں چھوڑا۔ اسی طرح حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی پاک دامنی، ایمان اور اطاعتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے انہیں بھی اہل ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔
خطاب کے آخری حصے میں انہوں نے آیتِ تطہیر کا حوالہ دیتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے مقام و منزلت اور اہل بیت علیہم السلام کی طہارت پر روشنی ڈالی۔










آپ کا تبصرہ